روزہ اور مخلوقِ خداوندی

3543جامعه (کویته) بقلم: طاہرعبداللہ

روزہ رکھنے کاحکم ربِ دوجہاں نے قرانِ مجید کی سورہ بقرہ کی آیت نمبر۱۸۳(یاایھالذین امنواکتب علیکم الصیام کماکتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون) میں اِس طرح دیا ہے کہ اے ایمان والو! آپ پرروزے فرض کردیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے والوں پرفرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔ یہ روزہ رکھنے کا حکم دوشعبان دوہجری یعنی ۲۸ جنوری ۶۲۴ کو مدینہ میں نازل ہوا۔ رمضان المبارک وہ واحد مہینہ ہے جس کانام سورہ بقرہ کی آیت نمبر۱۸۵(شہررمضان الذی انزل فیہ القران) میں آیاہےجس میں خداوند قدوس فرماتے ہیں کہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرانِ مجید نازل کیاگیا۔ کتاب مُستدرک الوسائل میں فرمانِ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ رمضان گناہوں کوجلادینے والامہینہ ہے اور خداوندِعالم اِس ماہ میں اپنے بندوں کے گناہوں کوجلاکرراکھ کردیتاہےاوراُنہیں بخش دیتاہے۔ ماہِ رمضان عربی مہینوں کایہ نواں مہینہ ہے جوتمام مہینوں سے افضل ہے اوراِسی مہینے میں سب راتوں سے افضل رات شبِ قدربھی موجودہے جوہزارمہینوں (۸۳ سال اور۴ ماہ) سے بہترہے۔

روزہ کسی نہ کسی شکل اورنوعیت میں دُنیا کے تقریباً تمام مذاہب، اقوام اوردیگر مخلوقات میں بھی پایاجاتاتھااورآج بھی پایاجاتاہے۔انسائیکلو پیڈیابریٹانیکا میں روزہ کوسبھی اقوام سے مُتعلق بتایاگیاہے۔ روزہ ایک ایسااَمرہے جوانسانی فطرت کے ساتھ بالکل سازگارہے۔ وہ قومیں جو آسمانی اَدیان کے تابع نہیں تھیں جیسے مصر،یونان اوررُوم کی قدیم اقوام یاہندوستان کے بُت پرست لوگ یہ سارے کے سارے اپنے اپنے عقائد کے مطابق روزہ رکھتے تھے اورآج بھی روزہ رکھتے ہیں۔ اِسلام کے علاوہ یہودیت اورعِیسائیت کی ابتدابھی سچے پیغمبروں سے ہوئی تھی لیکن باقی مذاہب کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ دراصل آسمانی ہدایت کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں یاپھرپیش کرنے والوں نے خدائی شریعت کے رنگ ڈھنگ میں نقالی کی ہے۔ بہرحال اِن تمام مذاہب میں جہاں اوربہت سی عبادات موجودہیں وہاں روزہ کی عبادت بھی تواترسے موجودہے۔

ہندومت تقریباًچارہزارسال پہلے ہندوستان میں اختیارکیاگیا۔ ہندومت میں ویکنتاایکاوشی وہ تہوارہے جس میں دن کوروزہ (برت)رکھاجاتاہے اوررات کوعبادت کی جاتی ہے۔ ہندوجوگی جب چلہ کشی کرتے ہیں تووہ چالیس دن تک روزہ رکھتے ہیں۔برہمن جوہندوئوں کی برترذات ہے اُن پر ہرہندومہینے کی گیارہ تاریخ کوروزہ فرض ہے۔ اِس کے علاوہ ہندی مہینے کاتک کے ہرسوموارکوروزہ رکھاجاتاہے۔ ہندوسنیاسی بھی جب اپنے مُقدس مقامات کی زیارت کیلئے جاتے ہیں تووہ روزہ میں ہوتے ہیں۔ ہندوئوں میں نئے اورپورے چاند کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کارواج ہے۔ اِس کے علاوہ قریبی عزیزیابزرگ کی وفات پربھی روزہ رکھنے کی رِیت پائی جاتی ہے۔ہندومت میں تذکیہءِ نفس اور کفارے کاروزہ بھی رکھاجاتاہے۔ ان تمام روزوں کے علاوہ منت، نذراورشکرانے کے روزوں کابھی رواج ہے۔خاص بات یہ کہ ہندو عورتیں اپنے شوہروں کی درازیءِعُمرکیلئے بھی کڑواچوتھ کاروزہ رکھتی ہیں۔

پارسی مذہب جس کی اِبتداحضرت عیسٰی علیہ السلام سے چھ سو سال پہلے فارس (ایران)میں ہوئی تھی اُس میں بھی روزہ رکھاجاتاہے۔لیکن آج کل وہ زیادہ تر کھاناپیناترک نہیں کرتے بلکہ آنکھ، کان، زبان اورہاتھ وغیرہ سے گناہ نہ کرنے کی نیت کرکے روزہ رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں عام طورپرکھاناپیناترک کیاجاتاہےلیکن آنکھ،کان،زبان اورہاتھ وغیرہ سے گناہوں سے بچنے کی کوشش نہیں کی جاتی جبکہ روزہ میں یہ ساری باتیں شامل ہیں۔

بُدھ مت جس کاآغازبھی چھ سوسال قبلِ مسیح ہندوستان کے شمال مشرقی حصے میں مہاتمابُدھ سے ہواتھا، کے وہ تیرہ اعمال جوخوشگوار زندگی گزارنے کاحصہ ہیں اُن میں روزہ بھی شامل ہے۔بُدھ مت کے بھکشو(مذہبی پیشوا)کئی دنوں تک روزہ رکھتے ہیں اوراپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ گوتم بُدھ کی برسی سے مُتصِل پہلے پانچ دن کے روزے رکھے جاتے ہیں یہ روزے بھکشومکمل رکھتے ہیں لیکن عوام جزوی روزہ رکھتے ہیں جس میں صرف گوشت کھانامنع ہوتاہے۔ بُدھ مت میں عام پیروکاروں کوہرماہ چارروزے رکھ کرگناہوں کااعتراف اورتوبہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے جبکہ چین کے علاقے تِبَتّ میں چاردن کاروزہ رکھاجاتاہے جس میں پہلے دودنوں میں شرائط کچھ نرم ہیں لیکن تیسرے روزے کی شرائط اِتنی سخت ہوجاتی ہیں کہ تھُوک نگلنابھی منع ہوتاہے۔

مُقدّس کتاب اِنجیل میں حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اپنے حواریون کوخوش دِلی سے روزہ رکھنے کی تاکیدکی ہے۔ عیسائی لوگ فرض روزوں کی ساتھ ساتھ نفلی روزے بھی کثرت سے رکھتے ہیں۔ رومن کیتھولک عیسائیوں میں بُدھ اورجمعہ کواب بھی روزہ رکھاجاتا ہے۔ اکثریہ ہوتاہے کہ چرچ کاپادری سال میں کسی بھی وقت روزہ رکھنے کاشیڈول جاری کرتاہے جوسال کے پہلے تین دن، سات دن، اکیس دن یامہینے پرمشتمل ہوتاہے۔ عیسائی لوگ اپنی مرضی اورسہولت کے مطابق شیڈول پسند کرکے روزے رکھتے ہیں۔ اِن روزوں کی خاص بات یہ ہے کہ اِس میں پانی پینے کی اجازت ہوتی ہے کیونکہ اُن کے بقول پانی خوراک میں شامل نہیں ہے۔ لیکن آج کے جدیددَورمیں کچھ پادریوں نے روزہ رکھنے کوانسان کی مرضی پرچھوڑدیاہے اورفرض کی حیثیت بھی ساکت کردی ہے۔

مسلمانوں کے علاوہ یہودی بھی بہت زیادہ روزے رکھتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پرنازل ہونے والی مُقدس کتاب تورات میں کئی مقامات پرروزہ کی فرضِیّت کاحکم دیاگیاہے۔ یہودیوں میں تذکیہءِنفس اورخیالات کی یکسُوئی کیلئے روزہ رکھنے کی رَسم پائی جاتی ہے۔ مُصیبت اورآفاتِ انسانی کے موقع پربھی یہودی روزہ رکھتے ہیں۔ بارشیں نہ ہورہی ہوں اورقحط سالی ہوتوبھی روزہ رکھاجاتاہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے یومِ انتقال، یہودی مذہب کے بزرگان اوراپنے والدین کے یوم وفات پربھی عموماً روزہ رکھاجاتاہے۔

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ بہت سے جانور، پرندے اورمچھلیاں بھی روزہ رکھتی ہیں۔ مثال کے طورپروہ گُلہری جوزمین پربِل بناکررہتی ہے وہ سردیوں میں چارسے پانچ پانچ دن کاروزہ رکھتی ہے۔ گلہری یہ روزہ اِس لئے رکھتی ہے کہ سردیوں میں اُسے بِل میں چھُپ کررہناپڑتاہےا ورذخیرہ کی گئی خوراک پرہی گزارہ کرناہوتاہے۔ اِس لئے خوراک کی کمی کی وجہ سے قُدرت نے اُسے یہ اِلہام کررکھاہے کہ جب تک سردی ہے اورخوراک کی کمی ہے وہ چارسے پانچ پانچ دن کاروزہ رکھتی رہے تاکہ یہ سردیوں کاسخت موسم گزرجائے اورپھروہ اپنی نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئے۔

زقزاق یامُرغِ باراں ایک ایسا پرندہ ہے جوامریکہ کی ریاست الاسکا کے دَلدلی علاقے میں رہتاہے اورہِجرت کے موسم میں نوہزارکلومیٹر کاسُمندری دُشوارگذارفاصلہ طے کرکے انڈونیشیاکے علاقے میں آتاہے۔ اِس راستے کوعبورکرنے کیلئے اُسے آٹھ دن مسلسل سمندرکے اوپر پروازکرناپڑتی ہے اوروہ یہ اِتناطویل فاصلہ روزہ کی حالت میں صِرف اورصِرف اللہ تعالی کی دی گئی ہِمّت اورحوصلے سے طے کرتا ہے۔

پینگوئن سردعلاقوں میں رہنے والاوہ خوبصورت پرندہ ہے جوہرسال سردیاں قُطب جنوبی میں گزارتاہے اوربہارآتے ہی قُطب شمالی کی جانب سینکڑوں میل کافاصلہ طے کرتاہے۔ مادہ پینگوئن انڈے دیتی ہے اورنرپینگوئن دوہفتے تک روزہ رکھ کرانڈے سینچتارہتاہے اوربچوں کی پیدائش تک وُہیں گھونسلے میں موجودرہتاہے۔ اولادکی خاطر پینگوئن والدکادوہفتے کامُسلسل روزہ اِنسان کیلئےسبق چھوڑتاہے۔

ایک قُدرت کاکرشمہ گھُونگھاہے جسے اِنگلش میں سَنیل کہتے ہیں جوزیادہ سخت سردی اورگرمی میں درخت کے تنے، باڑیادیوارپرچِپک کر اپنے اُوپرایک خول چڑھالیتاہے۔ سردی اورگرمی کے خاتمے تک روزہ رکھتاہےاورموسم اچھاہوتے ہی اپنی جگہ چھوڑکردوبارہ زمین پرآجاتاہے۔

اِسی طرح پینگولن ایک چیونٹی خورجانورہےجوسایہ داراوربے آبادجنگل میں رہتاہے،ایک ماہ کامسلسل روزہ رکھتاہے۔ایک تو ہجرت کے موسم میں اِن جانوروں کی تعدادبڑھ جاتی ہےاورخوارک کی کمی ہوجاتی ہے۔ دوسرایہ جانورکھانے میں بہت حریص ہوتاہے اورجلدی موٹاپے کاشکار ہو جاتاہے۔اِن باتوں کے پیش نظریہ جانورایک ماہ تک کاروزہ رکھتاہے۔

مندرجہ بالامعلومات پرہمیں حیران اورتعجب کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ سورہ جمعہ کی آیت نمبر۱(یُسَبحُ للہ مافی السموات ومافی الارض)میں ربِ کائنات کاواضح فرمان ہے کہ آسمانوں اورزمین میں جوکچھ بھی ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں۔ اب کوئی انسان یہ بتاسکتاہے کہ کبھی درخت، پہاڑ، بادل، جانوراورپرندوں کواُس نے تسبیح وتقدیس کرتے دیکھاہے۔نہیں، کیونکہ یہ تمام مخلوقاتِ خداوندی تسبیحِ خداتوکرتی ہیں لیکن اُن کی بناوٹ اورنوعیت ہم سے بالکل جدااورمختلف ہے اورساتھ ہی ہم اُن کی عبادات کودیکھنے سے قاصرہیں۔ قرانِ کریم کی سُورہ رحمٰن کی آیت نمبر۶ (والنجم والشجریسجدان)میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اوربیلیں اوردرخت (اللہ کو)سجدہ کررہے ہیں۔ اب کسی انسان نے بیلوں اوردرختوں کوکبھی سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔نہیں، کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں ایساکچھ دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں دی۔ ہم توقوسِ قزح کے صرف سات رنگوں کوہی دیکھ سکتے ہیں حالانکہ اِن رنگوں کے اُوپراورنیچے اوررنگ بھی موجودہیں جن کودیکھنے کی اِس انسانی آنکھ میں سکت اوراہلیت نہیں۔ اِسی لئے توقوسِ قزح کے وہ رنگ جوبنفشی رنگ سے نیچے ہوتے ہیں اُن کواَلٹراوائلِٹ کہاجاتاہے اورجورنگ سرخ رنگ سے اُوپرہوتے ہیں اُن کو اِنفرارَیڈ کہاجاتاہے۔

جہاں تک جِنّات کے روزہ رکھنے کامعاملہ ہے تووہ بھی اپنے اندازاورطریقے سے روزہ رکھتے ہیں کیونکہ ایک توسُورہ الذاریات کی آیت نمبر۵۶ (وماخلقت الجن والانس الالیعبدون)میں ارشادِخداوندی ہے کہ اورمَیں نے جِن اورانسان کوصرف اپنی عبادت کیلئے پیداکیاہے۔ دوسراسورہ جِن کی آیت نمبر۱۴ (وانامناالمسلموں ومناالقاسطون)میں جِنّات کہتے ہیں کہ اورہم میں سے کچھ مُسلمان ہیں اورکچھ نافرمان ہیں۔ اِن آیات سے واضح ہوتاہے کہ جنات عبادت کیلئے پیداکئے گئے اوراُن میں سے کچھ مسلمان بھی ہیں۔ پس جومُسلمان ہیں اُن پر بحیثیت مُسلمان تمام عبادات بجالانالازم اورناگُزیرہے۔ فرشتوں کے حوالے سے سُورہ الانبیا کی آیات نمبر ۱۹اور۲۰ (لایستکبرون عن عبادتہ ولا یستخسرون۔ یسبحون الیل والنھاریایفترون)میں اللہ رُبُّ العِزت فرماتے ہیں کہ وہ عبادت سے سرکشی نہیں کرتے اورنہ تھکتے ہیں۔ رات اوردِن کوتسبیح کرتے ہیں سُستی نہیں کرتے۔ قُرانِ مجیدسے فرشتوں کی عبادت توثابت ہے لیکن روایات میں اُن کاروزہ رکھنانہیں ملتاکیونکہ یہ بھوک اورپیاس سے بالاترہیں۔

معلوم نہیں اشرف المخلوقات انسان میں سے وہ کون سے لوگ ہیں جوربِ کائنات کے روزہ رکھنے کے فرمان اورحُکم کوپَسِ پُشت ڈال کر نہ صرف یہ کہ روزہ نہیں رکھتے بلکہ روزہ اورروزہ داروں کامذاق بھی اُڑاتے ہیں۔ ایسے ہی ناشکرے، نافرمان اوربدبخت انسان کیلئے اللہ تعالی کانعمتوں، رحمتوں اوربرکتوں بھرامہینہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاتے جاتے یہ کہتاجاتاہے کہ افسوس ہے ایسے انسان پر جس نے ربِ دوجہاں کی طرف سے بھیجے گئے مُجھ جیسے مہربان مہینے کواپنے درمیان پایالیکن میرے فیوض اوربرکات سے فائدہ نہ اُٹھایا۔ پھربھی اِس فانی دُنیامیں رب تعالیٰ کے ایسے فرماں بردارنیک بندے بھی موجودہیں جوماہِ رمضان کی آمدپرخُوش ہوتے ہیں اوراُس کی رُخصتی پربہت پریشان ہوجاتے ہیں۔ پس ہم سب کورمضان المبارک کاخُوش دِلی سے اِستقبال کرناچاہیے اوراپنی دُنیاوی واُخروی بھلائی اوربہتری کیلئے تمام تربہانوں کوبالائے طاق رکھتے ہوئے خداوندِعالَم کے اِس فرمان بلکہ ہرفرمان پرسرخم کردیناچاہیے۔(جاری ہے)



دیدگاهها بسته شده است.