

براي تبادل لينک ابتدا لينک مارو بانام:جامعه امام الصادق (ع) در
وبلاگ ياسايتتان قراردهيد ،
سپس از طریق فرم نظرات به ما خبر دهيد تاما هم اين کار رو براي شما بکنيم.
فروردین 1389
اسفند 1388
بهمن 1388
دی 1388
آذر 1388
مهر 1388
مرداد 1388
تیر 1388
اردیبهشت 1388
اسفند 1387
بهمن 1387
دی 1387
آذر 1387
آبان 1387
مرداد 1387
باکمال افتخار میتوان ادعا کرد تربیت یافتگان این مرکز اکنون در حوزه علمیه قم متجاوز از صد نفر علماء و طلاب مشغول تحصیل و یا تکمیل مدارج علمی میباشند که هریک انشاء الله در آینده نزدیک نیروی کار آمد و مؤثر در دنیای اسلام و جهان تشیع خواهند شد. و نیز در گوشه گوشه پاکستان از کراچی الی بلتستان و گلگیت و از داخل بلوچستان الی پنجاب و سرحد در حوزه های علمیه و مساجد و مراکز علمی ایفاء وظیفه و فعالیت مینمایند، بهره علمی و معنوی را از جامعه امام صادق (ع) گرفته اند.
بخش اردو![]()
درباره ما![]()
بخش اساتید![]()
بخش آموزشی![]()
مرکز اسلامی خدیجه الکبری![]()
بخش تبلیغات![]()
بخش عبادی![]()
بخش طلاب![]()
بخش فلاحی![]()
بخش کامپیوتر![]()
بخش مناسبت ها![]()
بخش مقالات![]()
بخش تصاویر![]()
گذارش![]()
بخش امور قرآنی![]()

[+]
نوشته شده توسط مدیریت سایت در 12:15
|
|
انا لله و انا اليه راجعون
باتاسف و تاثر فراوان از حادثة غمناك و به شهادت رسيدن يكي از پاكترين مومنان و صديقترين شهروند پاكستان يعني حجت الاسلام علامه حسن ذاكري در كويته بلوچستان باخبر شديم. اين حادثه هرچند در نوع خود كمنظير نيست، اما باري ديگر از عزم و نيت ناپاك و شوم كساني پرده بر ميدارد كه بزدلانه از طريق ترور و كشتار انسانهاي بيگناه ميخواهند آرامش و زندگي مسالمتآميز مسلمانان پاكستان را در هر نقطهاي از خاك پاكستان ازبين ببرد. گرچند عاملان اين حادثة اسفناك تاهنوز دقيقاً مشخص نشده است، اما پيشاپيش پيدا ست كه جز عدة جاهل و كورانديش كه دين را ملغمة احساسات ضدانساني و جاهلانة خويش نموده است، كسي ديگري اقدام به چنين جنايت غيرانساني نميكند. اما آنچه كه مايه تاسف مضاعف ميشود مماشاتي است كه دولت در برابر اين اقدامات ضدانساني، منافي با وحدت ملي و منافع عمومي مردم پاكستان اعمال ميكند. تاكنون جهل، برداشت كور و تنگنظرانه از آموزههاي ديني از يك سو، ناكارآمدي و فساد دستگاه دولتي از سوي ديگر باعث شده كه مردمِ مسلمان و جامعه مومنان پاكستان، نه تنها قربانيان و هزينههاي بيشماري انساني، اجتماعي، اقتصادي، مذهبي و فرهنگي را متحمل شوند، بلكه شاهد بدترين، دردآورترين و غيرانسانيترين فجايع جاري در جهان باشند. قتل و كشتار انسانهاي بيگناه، ترور و دهشتافگني در مقدسترين اماكن مذهبي، بيخانمان شدن صدها و هزاران خانواده در نقاط مختلف، اينك كشور را در آستانه يك جنگ داخلي تمام عيار قرار داده است. در آينده دولت اگر همچنان سياست مماشات در برابر اين كانونهاي ترور، دهشتافگني را ادامه دهد، تثبيت اين وضعيت، جدا از هزينههايي كه در ابعاد مادي و معنوي براي مردم پاكستان، حتي در سطح جهاني داشته، ميتواند پيامدهاي به مراتب فاجعهآميزتر و خطرناكتر از آنچه تاكنون متحمل شده ايم نيز بدنبال داشته و نه تنها در سطح مردم بلكه طعم زندگي آرام را حتي به كام دولتمردان نيز تلخ خواهد كرد. ما، طلاب كويته مقيم قم، ضمن اين كه شهادت اين عالم وارسته و صديق را به همة شيعيان پاكستان، خانواده آن مرحوم و كليه داغديدگان آن شهيد تسليت ميگوييم، شديداً از مقامات دولتي ميخواهيم كه با عوامل ترور و وحشت به صورت بنيادي و ريشهاي برخورد كرده و عاملان شهادت علامه حسن ذاكري را نيز به سزاي اعمال ناپاك شان برساند.
والسلام : طلاب كويته مقيم قم
[+]
نوشته شده توسط مدیریت سایت در 17:56
|
|
جامعہ امام صادق میں مشہور عالم دین علامہ محمد حسن ذاکری نجفی کی المناک شہادت کے سلسلے میں منعقد جلسہ سے ٹیلفونک خطاب میں پرنسپل جامعہ امام صادق علامہ جمعہ اسدی نے فرمایا : کہ شہید ایک سادہ منش انسان تھے انہوں نے اپنی زندگی تبلیغ و ترویج اسلام و قرآن کے لئے وقف کر رکھی تھی ایک نامور خطیب تھے اور ہمیشہ اتحاد و وحدت کی بات کرتے تھے مذہبی منافرت سے کوسوں دور تھے اور ہر عام و خاص کے لئے دلعزیز تھے۔ تعجب ہے کہ کوئٹہ جیسے شہر میں اس طرح کے لوگوں کی جان بھی محفوظ نہیں اور اس طرح کے غیر متنازع افراد تک کو قتل کیا جانا دشمن کی انتہائی گہری سازش کی غمازی کرتی ہے جس پر کوئٹہ شہر کے مہذب شہریوں کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہئے اور صوبائی حکومت کی جانب داری اور بے حسی کے رویہ کا احتساب کرنا چاہئے اتنے بے گناہ لوگوں کے قتل پر حکومت کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی جسکا مطلب ہے صوبائی حکومت کو کوئٹہ شہر کے شہریوں کے مال و جان کا کوئی خیال نہیں اسے صرف اپنی کرسی کا خیال ہے۔ لیکن حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ شہید علامہ جیسے لوگوں کا خون انکے اقتدار کی کرسی کو نیست ونابود کردیگا۔ علامہ اسدی نے سعودی عرب سے ٹلیفونک خطاب میں حکومت کی بھر پور مزمت کرتے ہوئے شہید علامہ کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا اور انکی درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔
[+]
نوشته شده توسط مدیریت سایت در 10:29
|
|
کوئٹہ کے قریب دشت کے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے پنجابی امام
بارگاہ کے امام کو ایک ساتھی سمیت ہلاک کر دیا ہے جس پر شیعہ برادری نے احتجاج کیا ہے۔
دشت کے پولیس انسپکٹر عبدالسلام بنگلزئی نے بتایا ہے کہ علامہ شیخ حسن زاکری مچھ میں جمعہ کی نماز پڑھا کر واپس کوئٹہ جا رہے تھے کہ دشت کے قریب نامعلوم موٹر سائکل سواروں نے ان پر فائرنگ کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق علامہ زاکری اور ان کے ہمراہ ایک پولیس کا سپاہی غلام حضرت ہلاک ہو گئے ہیں جنھیں کوئٹہ ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد شیعہ برادری نے سخت احتجاج کیا ہے اور بولان میڈیکل کمپلیکس کے سامنے بروری روڈ بلاک کر دیا تھا۔
ایک شیعہ رہنما رحیم جعفری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ علامہ شیخ حسن زاکری کوئٹہ میں پنجابی امام بارگاہ میں امامت کرتے تھے لیکن ہر جمعہ کو وہ کوئٹہ سے کوئی ساٹھ کلومیٹر دور مچھ کی امام بارگاہ میں نماز پڑھانے جایا کرتے تھے۔ شیعہ رہنماؤں کے مطابق کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔
رحیم جعفری نے کہا ہے کہ انہوں نے کل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی ہے اور وہ میت کو گورنر ہاؤس کے سامنے لے جائیں گے اور وہاں احتجاج کریں گے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کرکے سزا دی جائے۔
[+]
نوشته شده توسط مدیریت سایت در 8:1
|
|

[+]
نوشته شده توسط مدیریت سایت در 7:34
|
|