تبليغاتX
جامعه امام الصادق (ع)

عید سعید مبعث خاتم الانبیا حضرت محمد مصطفی(ص) آخرین و اشرف فرستادگان الهی بر تمام بشریت و بخصوص بر مسلمانان مبارک باد.

+ نوشته شده در  سه شنبه سی ام تیر 1388ساعت 11:54  توسط مدیریت سایت  | 
کویته 22/6/2009: سید طالب آغا ناظم حلقه 15 همراه محافظ شخصی خود سید محمد جواد به شهادت رسیدند. سید طالب آغا وقتیکه دوکان خود را که واقع در خیابان فاطمه جناح  در مرکز شهر کویته میباشد بند نموده طرف خانه روان بودند که دو موتور سوار مسلح طرف آنها آتش گشودند. سید طالب آغا همراه سید جود در موقع به قتل رسیدند و یک محافظ و یک نفر دیگر که میخواستند دهشت گردان را کنترول نمایند زخمی شدند.

سید طالب آغا نه تنها یک تاجر معروف و موفق بود بلکه ایشان  در بلوچستان شیعه کانفرانس فعالیت داشت و همچنین ناظم حلقه 15 مری آباد بود.


+ نوشته شده در  سه شنبه دوم تیر 1388ساعت 9:32  توسط مدیریت سایت  | 
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں رات گئے نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شیعہ رہنماءاور یونین ناظم طالب آغا اپنے ساتھی سمیت ہلاک جبکہ گن مین سمیت دوافراد زخمی ہوگئے۔ شیعہ رہنماﺅ ں نے اس واقعہ کو مذہبی دھشت گردی قراد دیتے ہوئے اس سے صوبائی حکومت کی جانب سے امن وامان کی ناکامی قراردیددیا ہے تاہم پولیس نے اس واقعہ کوفرقہ وارانہ قرار دے کر ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔

کوئٹہ کی یونین کونسل پندرہ مری آباد کے ناظم طالب آغا اور ان کے ساتھی سیدجواد حسین کو رات کو اس وقت ایک موٹرسائیکل پر سوار دو مسئلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا جب وہ فاطمہ جناح روڈ پر گورنمنٹ سنڈیمن ہائی سکول کے قریب واقع اپنا شوروم بند کرکے گاڑی میں گھر کی طرف جارہے تھے گاڑی میں سوار طالب آغا کے محافظ اور ایک راہگیرملزمان کوپکڑنے کے دوران زخمی ہوگئے ہیں واقعہ کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واقعہ کے اطلاع ملتے ہی ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین اور ہزارہ برادری کے لوگ بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچ گئے جہاں انہوں نے صوبائی حکومت اور پولیس انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔
ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ شاہدزمان درانی نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ واقعہ مذہبی دھشت گردی کا واقعہ ہے اورپولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے شہرکی ناکہ بندی کردی ہے تاہم آخری اطلاعات کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی

شیعہ جرگہ کے رکن حاجی عبدالقیوم نے واقعہ کی مزمت کرتے ہوئے اس کی زمہ داری سنی تنظیم لشکر جھنگوئی پر عائد کی ہے۔ اور کہا ہے کہ کوئٹہ میں شیعہ افراد پر حملوں کے سلسلہ انیس سوآٹھانوے سے جاری ہے جس میں اب تک ڈھائی سو سے زیادہ افراد ہلاک اور سو زخمی ہوچکے ہیں بقول حاجی قیوم کے کچھ عرصے سے کوئٹہ میں شیعہ لوگوں کومارنے کے واقعات میں کمی آئی تھی مگراب پھریہ سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پرشدید تنقیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت تواپناحفاظت نہیں کرسکتی ہے تو وہ عوام کو کیا تحفظ فراہم کرے گی۔

اس موقع پر ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ شاہدزمان درانی نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ واقعہ مذہبی دھشت گردی کا واقعہ ہے اورپولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے شہرکی ناکہ بندی کردی ہے تاہم آخری اطلاعات کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے طالب آغا اور ان کے ساتھی کے قتل کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پولیس کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کریں۔ وزیراعلیٰ نے واقعہ کو امن وامان خراب کرنے اور برادر اقوام کو لڑانے کی سازش قرار دیا ہے ۔
+ نوشته شده در  سه شنبه دوم تیر 1388ساعت 9:13  توسط مدیریت سایت  |