حکومت اشتعال انگیز بیانات پر پابندی عائد کریں، علامہ جمعہ اسدی

کوئٹہ پ ۔ ر:  جامعہ امام صادق کے پرنسپل علامہ محمد جمعہ اسدی نے  محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان کے ڈائریکٹر خادم حسین نوری کی شہادت اور   تعمیر نو پبلک کالج کے پرنسپل پروفیسر فضل الحق میر پر ہونے والے فائرنگ کے واقعہ کی شدید مذمت کر تے ہوئے کہا کہ پروفیسر فضل الحق میر پر قاتلانہ حملہ صوبے کے خلاف ایک گہری سازش اور نوجوانوں کو علم کے نور سے محروم رکھنے کی کوشش ہے، فضل الحق میر جیسی شخصیت بلوچستان کے لیے ایک  سرمایہ ہے جس کی حفاظت پولیس کی ذمہ داری ہے، وہ قوم کے محسن ہیں اور اپنے محسنوں کو مارنے کی کوشش کرنے والے قابل نفرت ہیں۔

کچھ دہشت گرد عناصر کوئٹہ شہر کو یرغمال بنا رکھا ہے   آئے دن  ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے بے گناہ لوگوں کو  مار رہے ہیں  در اصل یہ دہشت عناصر یہود اور عالمی استعمار کے ایجنڈ اور پیسے کے غلام ہیں جسے کیلئے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔  افسوس  یہ ہے کہ انتہائی موثر حفاظتی اقدامات کا  دعوی کرنے کے باوجود شہر کے پر رونق اور اہم علاقے میں محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان کے ڈائریکٹر خادم حسین نوری کو دہشتگردی کا نشانہ بناتے ہوءے  شہید کردیا۔  ایسا محسوس ہو رہا ہے  کو ئٹہ  شہر دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے  اور  پولیس اور ایف سی دہشتگردوں کی حفاظت کر رہاہے نہ عوام کی۔

کا لعدم تنظیموں کے اشتعال انگیز بیانات پر ہائی کورٹ کی طرف سے عائد  پابندی  کے با جود عمل درآمد نہ ہونا   لمحیہ فکریہ ہے۔  ان کے اشتعال انگیز بیانات سے عوام میں نفرت اور دوریاں  پیدا ہونگے۔  حکومت کو چاہیے کہ اشتعال انگیز بیانات پر فوری طور پر پابندی عائد کرے۔

والسلام

G. secretary

17-12-2012



دیدگاهها بسته شده است.